Sunday, January 2, 2011

مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے

مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے
مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے
بنے دل تیرا ٹھکانہ مدنی مدینے والے 
تری جب کہ دید ہو گی جبھی میری عید ہو گی
مرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے 
مجھے سب ستا رہے ہیں مرا دل دکھا رہے ہیں
تمہی حوصلہ بڑھانا مدنی مدینے والے 
مرے سب عزیز چھوٹے سبھی یار بھی تو روٹھے
کہیں تم نہ روٹھ جانا مدنی مدینے والے 
میں اگرچہ ہوں کمینہ ترا ہوں شہ مدینہ
مجھے سینے سے لگانا مدنی مدینے والے 
ترے در سے شاہ بہتر ترے آستاں سے بڑھ کر
ہے بھلا کوئی ٹھکانہ مدنی مدینے والے 
ترا تجھ سے ہوں سوالی شہا پھیرنا نہ خالی
مجھے اپنا تم بنانا مدنی مدینے والے 
یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفاء ہے
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے 
تُو ہی انبیاء کا سرور تُو ہی جہاں کا یاور
تُو ہی رہبرِ زمانہ مدنی مدینے والے 
تُو ہے بیکسوں کا یاور اے مرے غریب پرور
ہے سخی تیرا گھرانا مدنی مدینے والے 
تُو خدا کے بعد بہتر ہے سبھی سے میرے سرور
ترا ہاشمی گھرانہ مدنی مدینے والے 
تیری فرش پر حکومت تری عرش پر حکومت
تُو شہنشہ زمانہ مدنی مدینے والے 
ترا خلق سب سے اعلیٰ ترا حسن سب سے پیارا
فدا تجھ پہ سب زمانہ مدنی مدینے والے 
کہوں کس سے آہ! جاکر سنے کون میرے دلبر
مرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے 
بعطائے رب دائم تُو ہی رزق کا ہے قاسم
ہے ترا سب آب و دانہ مدنی مدینے والے 
میں غریب بے سہارا کہاں اور ہے گزارا
مجھے آپ ہی نبھانا مدنی مدینے والے 
یہ کرم بڑا کرم ہے تیرے ہاتھ میں بھرم ہے
سر حشر بخشوانا مدنی مدینے والے 
کبھی جو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی
ترا ایسا سادہ کھانا مدنی مدینے والے 
ہے چٹائی کا بچھوانا کبھی خاک ہی پہ سونا
کبھی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے 
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے 
ملے نزع میں بھی راحت، رہوں قبر میں سلامت
تُو عذاب سے بچانا مدنی مدینے والے 
اے شفیع روزِ محشر! ہے گنہ کا بوجھ سر پہ
میں پھنسا مجھے بچانا مدنی مدینے والے 
گھپ اندھیری قبر میں جب مجھے چھوڑ کر چلیں سب
مری قبر جگمگانا مدنی مدینے والے 
مرے شاہ! وقتِ رخصت مجھے میٹھا میٹھا شربت
تیری دید کا پلانا مدنی مدینے والے 
پس مرگ سبز گنبد کی حضور ٹھنڈی ٹھنڈی
مجھے چھاؤں میں سُلانا مدنی مدینے والے 
مرے والدین محشر میں گو بھول جائیں سرور
مجھے تم نہ بھول جانا مدنی مدینے والے 
شہا! تشنگی بڑی ہے یہاں دھوپ بھی کڑی ہے
شہ حوض کوثر آنا مدنی مدینے والے 
مجھے آفتوں نے گھیرا، ہے مصیبتوں کا ڈیرہ
یانبی مدد کو آنا مدنی مدینے والے 
ترے در کی حاضری کو جو تڑپ رہے ہیں اُن کو
شہا! جلد تم بلانا مدنی مدینے والے
کوئی اِس طرف بھی پھیرا ہو غموں کا دور اندھیرا
اے سراپا نور! آنا مدنی مدینے والے 
کوئی پائے بخت ورگر ہے شرف شہی سے بڑھ کر
تری نعل پاک اٹھانا مدنی مدینے والے 
مرا سینہ ہو مدینہ مرے دل کا آبگینہ
بھی مدینہ ہی بنانا مدنی مدینے والے 
اے حبیب رب باری، ہے گنہ کا بوجھ بھاری
تمہیں حشر میں چھڑانا مدنی مدینے والے 
مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سنتوں کا پیکر
مجھے متقی بنانا مدنی مدینے والے 
شہا! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں
تیری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے 
ترے نام پر ہو قرباں مری جان، جانِ جاناں 
ہو نصیب سر کٹانا مدنی مدینے والے
تیری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے 
ہیں مبلغ آقا جتنے، کرو دور اُن سے فتنے
بری موت سے بچانا مدنی مدینے والے 
مرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ
اُنھیں خلد میں بسانا مدنی مدینے والے 
مرے جس قدر ہیں احباب اُنھیں کر دیں شاہ بیتاب
ملے عشق کا خزانہ مدنی مدینے والے 
مری آنے والی نسلیں ترے عشق میں ہی مچلیں
اُنھیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے 
ملے سنتوں کا جذبہ مرے بھائی چھوڑیں مولا
سبھی داڑھیاں منڈانا مدنی مدینے والے 
مری جس قدر ہیں بہنیں سبھی کاش برقع پہنیں
ہو کرم شہ زمانہ مدنی مدینے والے 
دو جہان کے خزانے دئیے ہاتھ میں خدا نے
تیرا کام ہے لٹانا مدنی مدینے والے 
ترے غم میں کاش عطار، رہے ہر گھڑی گرفتار
غمِ مال سے بچانا مدنی مدینے والے







No comments:

Post a Comment