Monday, January 3, 2011

الوداع الوداع ماہ رمضان

الوداع الوداع ماہ رمضان

قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

کلفت ہجر و فرقت نے مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرے آنے سے دل خوش ہوا تھا
اور ذوق عبادت بڑھا تھا

آہ! اب دل پہ ہے غم کا غلبہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیری آمد یہ جو خوش ہو رخصت
پر کرے غم ملے اس کو جنت

یہ حدیث مبارک میں آیا
الوداع الوداع ماہ رمضان


مسجدوں میں بہار آگئی تھی
جوق در جوق آتے نمازی

ہو گیا کم نمازوں کا جذبہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

بزم افطار سجتی تھی کسی !
خوب سحری کی رونق بھی ہوتی

سب سماں ہوگیا سونا سونا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرے دیوانے اب رو رہے ہیں
مضطرب سب کے سب ہورہے ہیں

ہائے اب وقت رخصت ہے آیا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تیرا غم سب کو تڑپا رہا ہے
آتش، شوق بھڑکا رہا ہے

پھٹ رہا ہے ترے غم میں سینہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

یاد رمضان کی تڑپا رہی ہے
آنسوں کی جھڑی لگ گئی ہے

کہہ رہا ہے یہ ہر ایک قطرہ
الوداع الوداع ماہ رمضان


دل کے ٹکڑے ہوئے جارہے ہیں
تیرے عاشق مرے جارہے ہیں

رو رو کہتا ہے ہر اک بچارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

حسرتا ماہ رمضان کی رخصت
قلب عشاق پر ہے قیامت

کون دے گا انہیں اب دلاسہ
الوداع الوداع ماہ رمضان
کوہ غم آہ ! ان پر پڑا ہے
ہر کوئی خون اب رو رہا ہے

کہہ رہا ہے یہ ہر غم کا مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

تم پہ لاکھوں سلام مہ رمضان
تم پہ لاکھوں سلام ماہ غفراں

جا حافظ خدا اب تمہارا
الوداع الوداع ما ہ رمضان

نیکیاں کچھ نہ ہم کر سکے ہیں
آہ! عصیاں میں ہی دن کٹے ہیں

ہائے! غفلت میں تجھ کو گزارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

واسطہ تجھ کو میٹھے نبی کا
حشر میں ہم کو مت بھول جانا

روز محشر ہمیں بخشوانا
الوداع الوداع ماہ رمضان

جب گزر جائیں گے ماہ گیارہ
تیری آمد کا پھر شور ہوگا

کیا مری زندگی کا بھوسہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

ماہ رمضان کی رنگین ہوا!
ابر رحمت سے مملو فضا

لو سلام آخری اب ہمارا
الوداع الوداع ماہ رمضان

کچھ نہ حسن عمل کرسکا ہوں
نذر چند اشک میں کررہا ہوں

بس یہی ہے مرا کل اثاثہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

ہائے عطار، بدکار کاہل
رہ گیا یہ عبادت سے غافل

اس سے خوش ہو کے ہونا ورنہ
الوداع الوداع ماہ رمضان

سال آئندہ شاہ حرم تم
کرنا عطار پر یہ کرم تم

تم مدینے میں رمضان دکھاتا
الوداع الوداع ماہ رمضان









No comments:

Post a Comment